مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ معاملہ: مسلم نوجوانوں کے ڈسچارج کے خلاف اے ٹی ایس اور ہندو ملزمین کو کوئی حق نہیں ، سینئر ایڈوکیٹ یوگ چودھری ممبئی ہائی کورٹ میں بحث کا آغاز، کل بھی بحث جاری رہے گی

مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ معاملہ:
مسلم نوجوانوں کے ڈسچارج کے خلاف اے ٹی ایس اور ہندو ملزمین کو کوئی حق نہیں ، سینئر ایڈوکیٹ یوگ چودھری
ممبئی ہائی کورٹ میں بحث کا آغاز، کل بھی بحث جاری رہے گی





ممبئی 12 مارچ( پریس ریلیز)
مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ معاملے میں خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے باعزت بری(ڈسچارج) کیئے گئے 9 مسلم نوجوانوں کے خلاف بی جے پی قیادت والی ریاستی حکومت اور بھگوا ملزمین کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ یوگ چودھری نے بحث کاآغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں اے ٹی ایس کو اعتراض کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے کیونکہ اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کو این آئی اے کی چارج شیٹ نے بے دخل کردیا ہے جس کے بعد ہی خصوصی این آئی اے عدالت نے مسلم نوجوانوں کو راحت دی تھی۔
ایڈوکیٹ یوگ چودھری نے دو رکنی بینچ کے جسٹس بی پی دھرم ادھیکاری اور جسٹس پرکاش نائک کو بتایا کہ اے ٹی ایس کی طرح ہی اس معاملے میں بعد میں گرفتار کیئے گئے چار ملزمین (ہندو ملزمین) کو مسلم نوجوانوں کے ڈسچارج پر قانوناً کچھ بھی بولنے کا حق نہیں ہے۔
ایڈوکیٹ یوگ چودھری نے عدالت کو بتایا کہ سال 2006 میں حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان کے پاس بم دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد اے ٹی ایس نے 9 مسلم نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے گرفتار کیا تھا کہ یہ ایک ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کا واقعہ ہے لیکن چند سالوں کے بعد سمجھوتا ایکسپریس بم دھماکہ معاملے میں گرفتار ملزم سوامی اسیمانند کے اعتراف جرم کے بعد این آئی اے نے اے ٹی ایس کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے سوامی اسیمانند کے اعتراف جرم کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی تفتیش مکمل کی جس کے دوان یہ انکشاف ہوا کہ اے ٹی ایس نے مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا ہے ۔جس کے بعد مسلم نوجوانوں نے نچلی عدالت میں ڈسچارج عرضداشت داخل کی جہاں عدالت نے این آئی کے تفتیش کی روشنی میں ڈسچارج کردیا۔
اسی درمیان اے ٹی ایس کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حالانکہ این آئی اے کی چارج شیٹ کی روشنی میں مسلم نوجوانوں کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا گیا ہے لیکن آج بھی عدالت میں اے ٹی ایس کی چارج شیٹ موجود ہے لہذا بجائے مسلم نوجوانوں کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کے دونوں گروپ کے ملزمین کے خلاف ٹرائل چلایاجائے۔آج فریقین کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے کل تک اپنی سماعت ملتوی کردی۔
دوران سماعت آج عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ اشریف شیخ ، ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان ، ایڈوکیٹ متین شیخ ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ شروتی ویدیہ، ایڈوکیٹ امیر ملک، ایڈوکیٹ پایوشی رائے و دیگر حاضر تھے ۔
واضح رہے کہ ساڑھے پانچ برسوں تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے والے ملزمین نورالہدا شمش الضحی، شبیر احمد مسیح اللہ(مرحوم)، رئیس احمد رجب علی منصوری، ڈاکٹر سلمان فارسی عبدالطیف آئمی، ڈاکٹر فروغ اقبال احمد مخدومی، شیخ محمد علی عالم شیخ، آصف خان بشیر خان، محمد زاہد عبدالمجید انصاری،ابرار احمد غلام احمد کو خصوصی عدالت نے 2011 میں ضمانت پر رہا کیا تھا اور اس کے بعد ان ملزمین نے جمعیۃ علماء کے توسط سے مقدمہ سے باعزت بری کیئے جانے کی عرضداشت داخل کی تھی جس کے بعد خصوصی عدالت نے ناکافی شہادت کی بناء پر ملزمین کو باعزت بری کیا تھا لیکن مسلم نوجوانوں کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے کے چند ماہ بعد ہی ریاستی حکومت نے ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جسے عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرلیاتھا جس پر سماعت شروع ہوچکی ہے ۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی