مالیگاؤں : 30 مئی / دنیا کے بڑے بڑے ممالک کورونا وائرس کی لڑائی میں ناکام ہوگئے ہیں لیکن چھوٹی سی مالیگاؤں کارپوریشن کچھ حد کامیاب ہوئی ہے اور الحمد اللہ مالیگاؤں کارپوریشن نے شہر میں کورونا بیماری کے باعث شہریان کو بروقت پانی فراہم کروایا، صاف صفائی کی جاتی رہی ہے، کارپوریشن کے دواخانوں سے غریب عوام کو طبی امداد دی جاتی رہی ہے اور کارپوریشن کے عملہ نے دن رات محنت کرکے شہریان کی ہر ممکن خدمات جاری رکھی ہیں اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ کارپوریشن اپنے فرائض کی ادائیگی میں کامیاب رہی ہے اسطرح کا تفصیلی خطاب سابق میئر و کانگریس پارٹی کے صدر شیخ رشید نے گزشتہ روز شام چار بجے کانگریس پارٹی آفس ہزار کھولی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے کیا ۔سابق میئر شیخ رشید نے کہا کہ کورونا وائرس وبائی امراض کے اس دور میں طبی امداد رکھنے والے بڑے بڑے ملک اس بیماری کو لیکر پریشان تھے جس میں ہمارا ملک اور مالیگاؤں اس میں کمزور تھا ، مالیگاؤں شہر کے کچھ بڑے ڈاکٹروں نے اسپتالوں کو بند کرنے کا علان کر دیا تھا ، کچھ اسپتال کے ڈاکٹرس نے مریضوں کو کورونا جانچ رپورٹ کا بہانہ بنا کر انکا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا ،جس کی وجہ سے شہر میں بڑی تعداد میں اموات ہوئی ، لیکن گزشتہ 40 روز قبل شہر سے عوام اور کانگریس کے نمائندوں کی آواز اٹھی اور شہر میں آئے وزیر صحت اور انتظامیہ کی مداخلت کے بعد شہر میں اسپتال کھلے اور عوام کا علاج جاری ہوا اور شہر میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں کمی ہوئی ، کورونا کے آگے دنیا کی بڑی بڑی طاقت فیل ہو گئی جس کے آگے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن بہت چھوٹی ہے ، شہر کے کچھ ڈاکٹروں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام کا علاج کیا ہے ایسے سبھی ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کیلئے جلدہی ہم ایک تقریب منعقد کرتے ہوئے انکا عوامی استقبال کرینگے شیخ رشید نے کہا کہ شہر میں کارپوریشن کی جانب سے کچرا اٹھایا جارہا ہے ، صاف صفائی جاری ہے ، کارپوریشن اپنا کام برابر کررہی ہے ، شہر میں سائزنگ اور کارخانوں کو نوٹس میونسپل کارپوریشن نے نہیں بلکہ این جی ٹی نے دیا تھا ، مگر کچھ ناسمجھ اور نا اہل افراد بول رہے ہیں کہ نوٹس کارپوریشن کی جانب سے دی گئی ہے جبکہ کارپوریشن کو اس کا اختیار ہی نہیں ہے ، جس شخص کو کام کرنا نہیں آتا ہے اور جو بڑے دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہے ایسے شخص کو شہر کی عوام نے ایم ایل اے بنا کر نمائندگی کا موقع دیا ہے لیکن شہر کا نمائندہ رہتے ہوئے انہوں نے شہر میں کچھ بھی کام انجام نہیں دیا ہے ۔ شیخ رشید نے سخت لہجہ میں کہا کہ آج غریب عوام شہر میں بھکمری کا شکار ہے ، جنہیں سرکار مفت اناج دے رہی ہے اور غریبوں کے حصے کے اناج کو چوری کرنے کا کام بھی یہی مہا گٹھ بندھن کے لوگ کررہے ہیں۔انہوں نے دوران گفتگو کہا کہ گزشتہ روز پوارواڑی پولس اسٹیشن کی حدود میں جو راشن اناج چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا اس میں ملزم کام کرنے والوں کو بنایا گیا ہے جبکہ اس کے اصل ملزم اس اکیس راشن دکانوں کا چیئرمین ہے جن پر مقدمہ درج ہونا چاہیئے۔ شیخ رشید نے کہا کہ میں خود اپنے لیٹر ہیڈ پر ریاستی وزیر جھگن بھجبل سے شکایت کرونگا اور خود ذاتی ملاقات کر اس معاملے کے اصل ملزمین کو گرفتار کرنے کی مطالبہ کرونگا ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں مرحوم نہال احمد اور مرحوم بلند اقبال کے نام سے جو بھی کٹس عوام میں تقسیم ہوئی وہ راشننگ اناج کی کالا بازاری کا مال تھا. شہر کے ایم ایل اے نے عوام سے جھوٹی ہمدردی ہی سہی بتانے کے لئے اپنے لیٹر ہیڈ پر راشننگ اناج کی کالا بازاری اور چوری کرنے والی راشن دکان کو بند کرنے کی مطالبہ کرنا چاہئے ۔اس پریس کانفرنس میں کانگریس ترجمان صابر گوہر بھی موجود تھے ۔
کورونا وائرس کا شکار ہوئے مریضوں کی طبی خدمات کرنے والوں ڈاکٹرس کا استقبال اور دواخانوں کو بند کرنے والوں کی مذمت کی جائے گی لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں راشننگ اناج کی کالا بازاری کرنے والے اکیس دکانوں کے مالک، سوسائٹی کے چیئرمین پر مقدمہ درج کیا جائے (سابق میئر شیخ رشید)
Shahzad Akhtar (Editor, Maidan e Sahafat)
0
ایک تبصرہ شائع کریں