منصورہ کاڑھا،طب یونانی، اور وطنیت:(تاثراتی تحریر): شعبان بیدار صفاوی استاذ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤںایک بار پھر ملک گیر پیمانے پر طب یونانی نے خود کو منوالیا ہے. حفیظ اہل زباں کب مانتے تھےبڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں


طب یونانی امتداد زمانہ کے ساتھ بیشتر قوت باہ کے مریضوں کیلئے زندہ تھی مطلب متن کی ساری روشنی سیاہ حاشیوں کی مرہون منت. طب انگریزی کے حاملین کا تضحیک آمیز رویہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے عدم تعاون اس پر مستزاد اور خود طب یونانی میں عدم تحقیق اورنئے زمانے کی نئی تحقیقات سے دوری نےاسے دوا سے زیادہ خوش کن اعتقاد بنادیا تھا 
طب یونانی  بے چارے باہ والے مایوس مریضوں کے تن مردہ میں جان ڈالتی رہی ہے کیونکہ اس کی ادا ہی نرالی رہی ہے، ویسے بھی یونانی دواؤں کے نام مؤنث ٹائپ  ہوتے ہیں۔ دلی والے مرشد قبیل کے حکماء ناموں میں مردانہ، شباب اور فولاد جیسے الفاظ ڈال کر مؤنث کو مذکر بھی بناتے ہیں تب جاکر ان کے معجونوں میں مردوں کے لیے دل کشی پیدا ہوتی ہے. ویسے خاکسار کی نصیحت ہے کہ مرشد کے بنانے پر نہ جائیے وہ لوگوں کو بہت کچھ بناتے ہیں اور لوگوں کیلئے بھی. بس یہ شعر ملاحظہ فرمائیں.
بقول کسے:
موت سے اس لئے ہے ہم کو پیار
موت آتا نہیں ہے آتی ہے
اردو زبان میں سارے جنسی اشتہار ات یونانی جنسی ادویات کے ہوتے ہیں آگ کا دریا، چنگاری شبابی، کبابی، نوابی، فولادی گلابی، محل توڑ، جان توڑ، مکان توڑ، مکین توڑ، اور بہت سارے توڑ ٹایپ ایسے ایسے کہ قبلہ اعلی بھی لاحول پڑھ کے بھاگ کھڑے ہوں۔
بہر کیف بہ استثناء مرشد کتابی حکیموں کی زندگی اور روزی روٹی اسی ڈھکوسلے پر چل رہی ہے وہ کوئی اور دوا رکھتے ہوں نہ رکھتے ہوں دوائے باہ نہ صرف رکھتے ہیں بلکہ اس کا تنہا ماہر بھی خود کو سمجھتے ہیں اور یہ وہ ایک خاص بات ہے جس نے طب یونانی کو کچھ کا کچھ بنایا ہوا ہے حالانکہ یہ ڈھکوسلے اور جھولا چھاپ ڈاکٹری جیسی باتیں ایلوپیتھ میں بھی پائی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ اعلی معیار کا علاج بھی یہاں موجود ہے.
مذکورہ صورت حال کے باوجود جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کا طبیہ کالج میرے علم اور مشاہدے میں ایک ایسا کالج ہے جس نے طب یونانی کی عزت بچا رکھی ہے یہاں بی یو ایم ایس ڈاکٹر حضرات باقاعدہ طب یونانی کی پریکٹس کرتے ہیں اور مکمل یونانی طریقے سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں میں نے خود ذاتی تجربہ کیا ہے گھر میں بعض افراد کو مزمن امراض سے شفایابی طبیہ کالج کے علاج سے ہی مل سکی. بطور خاص انگریزی دوا سے بدن کو جو بے طرح پریشانی جھیلنی پڑتی تھی طبیہ کے قدرتی علاج میں اس کا کبھی احساس تک نہ ہوا.
طبیہ کا کاڑھا جو کرونا مریضوں کے علاج کی علامت بن چکا ہے دراصل طبیہ کے مخلص اور محنتی ڈاکٹروں کا متعارف کردہ مجرب نسخہ ہے جو بے حد سستا بھی ہے اس کاڑھے کا میں نے ذاتی طور پر تجربہ بھی کیا واقعی اس کے اندر قوت مدافعت غضب کی پائی جاتی ہے. یہ کرونا کا براہ راست علاج تو نہیں کرتا لیکن قوت مدافعت ایسی پیدا کرتا ہے کہ مرض جسم کے اندر ٹوٹ کررہ جاتا ہے اور جسم کی مجموعی صحت کو وائرس مغلوب نہیں کرپاتا.

 واضح رہے جوشاندہ کا یہ نسخہ حکیم ابوبکر صاحب کا مرتب کردہ ہے بلکہ طبیہ کالج کے بیشتر نسخے انہیں کے مرتب کردہ ہیں آپ محمدیہ طبیہ کالج کے قیام کے ابتدائی ایام میں دوا سازی کے مکمل ذمہ دار تھے اور ابتدائی ایام سے ہی یہ نسخہ جونشاندہ نزلہ کے نام سے یہاں پر مستعمل ہے ـ 
یہ ضرور ہے کہ حالیہ ذمہ داران نے اس اہم نسخے کو عوام اور انتظامیہ میں  کرونا جیسے وبائی حالات میں قوت مناعت کو بڑھانے اور نزلاوی علامات کو دور کرنے کے لئے متعارف کروانے میں کافی تگ و دو کی ہے جس کا سہرہ لازمی طور پر ان کے سر جانا چاہئے ـ  الحمد للہ ملک بھر میں اس سے نہ صرف محمدیہ طبیہ کالج بلکہ طب یونانی کو بھی شہرت حاصل ہورہی ہے ـ

لٹریری تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس کے تمام تر اجزاء معدل مناعت ، مانع تکسید ،  اینٹی بایوٹک اور بیشتر اجزاء اینٹی وائرل اور دافع حمی ہیں.

مجھے ایک دن بخار کی شکایت ہوئی، بارش کے سبب موسم خنک تھا، قریب گرنا ندی کے پانی سے گلے مل مل کر چلنے والی ہوائیں، رقابت کے دھوئیں سے لگتا تھا بدن تپ اٹھے گا، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ رات تک یا دوسرے دن سورج چڑھنے کے ساتھ  مجھے تیز بخار بھی چڑھ جائےگا گھر میں اتفاق سے منصورہ کاڑھا کے دو پیکیٹ موجود تھے ، میں نے اس کا استعمال شروع کردیا، دوہی خوراک میں خود کو بہتر محسوس کرنے لگا اور احتیاطا تین دن تک اسے استعمال کرتا رہا تیسرے یا چوتھے دن ممبئی بھیونڈی اور یوپی جیسی موسلادھار بارش ہورہی تھی، ایسا لگ رہا تھا سرزمین مالیگاؤں میں بادل اور زمین سے کوئی جنگ جاری ہو تیر کی طرح گرتی بوندوں سے اٹھنے والی پھوار، فضا میں کہر اور ایک خوبصورت دھند کا سماں تھا. اس پر ہلکی ہوا نے موسم سرما کی خوشگوار فضا کا تڑکا لگادیا تھا۔ بچپن میں تو ایسی بارشیں اور ان میں بھیگنا معمول کا حصہ تھا مگر اب عادت تبدیل ہونے کے سبب تادیر بارش میں بھیگنے سے مجھے ٹھنڈی لگنے لگتی تھی،  اس دن  تادیر بارش میں بھیگتا رہا مگر منصورہ کاڑھے کی حرارت تیز بارش کی خنکیوں سے بھی سرد نہ ہوسکی. ویسے سچائی یہ ہے کہ منصورہ کا جو محل وقوع ہے چھت سے ہر جانب ایک الگ ہی نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے. گرناندی میں چم چم لہراتا پانی، اوپر سے بارش کی بوندیں جیسے پریاں کل کل اور چھم چھم کی آواز کے ساتھ اپنے مسکن میں اتررہی ہوں اور فضائے آسمانی میں بادلوں کے قافلے اور زمین پر منصورہ کے سرخ پھولوں کی بہار جیسے کسی نے کوئلے دھکا دئیے ہوں، بھلا اس دل فریب منظر میں کسی کو سردی کی پرواہ ہو بھی تو کیوں کر ہو، مولانا آزاد کو سخت سردی  اور آگ کا آمیزہ بڑا عزیز تھا تو یہاں بھی بھری برسات میں پھولوں کے شعلے دہک رہے تھے.
منصورہ سے جڑے ہونے کے سبب کوئی نیا نمبر بلکہ دوستوں کا فون اٹھاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ آخر میرا فون ڈاکٹر عبد الماجد نہیں اٹھائیں گے تو مطالبہ کرنے والے کے سامنے اپنی رسوائی ہوگی😅، ڈاکٹر صاحب سے معذرت 😊بہرحال ایک ہنگامہ مچا ہے کاڑھا کاڑھا اور صرف کاڑھا، کہیں سبزی لینے جاؤ صاحب آپ منصورہ کے ہو ذرا...... کہیں تفریح پر ہیں ہاں جی منصورہ سے ہیں ارے وہ..... ہم نے کہا صاحب ہمیں کو پکا کے پی جاؤ یار!
لاکھوں کے آرڈر، لمبی قطار یں، عجیب منظر ہے ایسے میں اپنی بے عزتی خراب کرنے کون جائے😊 ویسے بھی کیا کم خانہ خرابی ہے جو فون کرنے والوں سے روز تازہ نئی افتاد خریدی جائے.
بہرحال یہ تو مزاح کی بات ہوگئ انتظامیہ پوری طرح جٹی ہوئی ہے مگر لوگوں کے مطالبات پورے نہیں ہو پارہے ہیں اور ان حالات کے باوجود انتظامیہ منصورہ سے وابستہ اساتذہ کی سفارشات اور ان کی اپنی ضروریات پر حتی المقدور توجہ دے رہی ہے اور ہمارے ممدوح ڈاکٹر صاحب بھی عزت افزائی میں کوئی کسر نہیں رکھتے.
جہاں کرونا کی دہشت سےفائدہ اٹھا کر پرائیویٹ ڈاکٹروں نے جم کے لوٹ مار کی لوگوں کی جیب پر ڈاکے ڈالے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا زندگیوں کا سودا کیا اور پوری سفاکیت کے ساتھ اپنا ضمیر اپنے تیز دانتوں کی کلہاڑیوں سے ٹکڑے ٹکڑے کیا اور ضمیر کا خون مکمل حیوانیت کے ساتھ چاٹتے رہے  تو بہتیرے ان ڈاکٹروں نے بھی اپنے دوا کھانے بند کرلئے جو علاج کرنے کے اہل تھے اور ان کے ساتھ ذاتی صحت اور کمزوری وغیرہ کے مسائل نہیں تھے.
مسیحائی موت سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی، جن اسپتالوں میں ٹھنڈی لاشوں کو گرم کرکے پیسے کی آگ بٹوری جاتی تھی وہ بھی بند پڑے تھے، سکوں کی کھنک، نوٹوں کی کھڑک ان کے تن مردہ میں جان نہ ڈال سکی. انسانی آبادی آہوں اور سسکیوں میں زندگی کی رمق تلاشنے میں لگی تھی۔
اس بار چلی باد سموم اور طرح کی
اس بار کھلا ہے گل تر اور طرح کا
ایسی گھڑی میں منصورہ طبیہ کالج کے فارغین پورے شہر میں درد دل کی دوا بن گئے تھے اور بلاتفریق مسلک وملت اپنوں غیروں سب کو اپنے ہاتھوں سے رب کی عطاکردہ رحمتیں تقسیم کررہے تھے۔ دراصل کاڑھا مفت تقسیم ہورہا تھا اور جب حالات بدلے تو دوا خرچ کی قیمت پر پورے ملک میں یہ کاڑھا تقسیم ہونے لگا اور آج بھی تقسیم ہورہا ہے. اور ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ کہ  پورا نسخہ جامعہ محمدیہ منصورہ کے طبیہ کالج نے عام کردیا تاکہ خلق خدا بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھا سکے.
موجودہ تاجرانہ عہد میں کسی نسخے کو پوری تفصیلات کے ساتھ عام کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے. جہاں دنیا ہزاروں اور لاکھوں روپئے کی ویکسین کی تیاری میں جٹی ہے، اربوں کی سرمایہ کاری ہورہی ہے، بلکہ طبی تاریخ کا سب سے مہنگا پروجیکٹ کرونا ویکسین کا پروجیکٹ ہوگا اور اس کی بھی اصل حقیقت قوت مدافعت کو تیزی سے بیدار کرنے سے متعلق ہے جس کے سائیڈ افیکٹ پر ابھی مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہوسکا ہے. دواؤں کی عالمی منڈی اپنے پورے استحصالی سازوسامان کے ساتھ ہر قطرہ خون اور ہر نفس گرم سے دولت کا جہنم کدہ تیار کرنے کے پلان میں ہے وہیں منصورہ کا مذکورہ کارنامہ پوری دنیائے انسانیت کیلئے نمونہ ہے، مشعل راہ ہے، آئینہ ہے، اور دوا مافیا کے منہ پر ایک اچھا سا طمانچہ بھی ہے۔
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائےگا
کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
حقیقت نے خود کو ایسا منوایا کہ کل جو لوگ نجی مجلسوں میں اور اہل علم کی محفلوں میں منصورہ اور اہل منصورہ کی تعریضا یا تقریرا برائی کیا کرتے تھے انہوں نے نئی تشبیب کے ساتھ غزلیں لکھیں اور نثری قصیدے رقم کئے.
والحق ماشہدت بہ الأعداء
لیکن یہ منزل نہیں ہے دراصل اللہ نے اپنی طرف سے مفت میں یہ کامیابی جو عطا کی ہے اس کے شکر کا عملی طریقہ یہ ہے کہ طبیہ کے اسٹیج سے تحقیق کی نئی دنیا دریافت کی جائے دنیا پر بیماری سے زیادہ دواؤں کا جو قہر جاری ہے اس کے خلاف ایک بڑی جنگ چھیڑ دی جائے، ایلوپیتھ میں جو ترقی ہوئی ہےاور اس کی جو ایجابیات ہیں ان سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جائے. طب کی دنیاکا جو مختصر مطالعہ ہے اس کی روشنی میں یہ عرض کرنے جسارت کروں گا کہ زمانے سے یہ خواہش ہے کہ جس طرح زندہ زبانیں آس پاس کی زبانوں سے مستفید ہوتے ہوتے خود کو طاقت ور کرلیتی ہیں اور مختلف زبانوں کی بہترین خصوصیات کو اس طرح اپنا لیتی ہیں کہ کوئی ان کی اصل پہچان تلاشنے پر بھی نہیں پاسکتا، اسی طرح طب یونانی کو دیگر طبی شعبوں سے مستفید ہونا چاہیے اور ایجابیات کے تجمع سے ایک نئی راہ پیدا کرنی چاہیے، جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم دنیا میں ہورہی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتے، مدارس اسلامیہ کے حوالے سے شب وروز ہم جس عصری آگہی کا بکھان کرتے ہیں اس کا صحیح محل دراصل یہی مقامات ہیں.
انگریزی طریق علاج میں اعلی معیار کی تحقیقات  اور اس کی پختہ سائنسی بنیادوں کا وجود ایک زندہ حقیقت ہے جس سے آنکھ چرا کر کوئی فائدہ نہیں ہونے والا بلکہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان تحقیقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طب یونانی میں بھی تحقیق کی بنیاد ڈالی جائے. اور مقلدانہ روش کے بجائے مجتہدانہ روش اختیار کی جائے. ایک زمانے سے میں سنتا رہا ہوں کہ یونانی دوائیں ایکسپائر نہیں ہوتیں بہت عجیب بات ہے بھئی یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ دن تک قابل استعمال رہیں مگر ہر دوا میں یہ خصوصیت ہو بالکل ضروری نہیں اور تادیر قابل استعمال ہونے کا بھی تو کوئی نظام ہونا چاہیے. یہ بھی سنتا رہا ہوں کہ ان دواؤں کا کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہوتا یہ بھی بڑی عجیب چیز ہے اگر کسی دوا کا افیکٹ ہے تو سائیڈ افیکٹ بھی ہونا چاہیے زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے درست طریق علاج سے اس کے جانبی اثرات اکثر معمولی ہوتے ہوں یا سائیڈ افیکٹ جلد نہیں ہوتا فی الواقع یہاں مقصود عرض کا یہ ہے کہ طب یونانی کو خالص تحقیقی طریقے کے ذریعہ فروغ دیا جانا چاہیے.
فی الحال طبیہ کی ذمہ داری رئیس الجامعہ کی سرکردگی میں عزیز محترم بلال ارشد کے ہاتھوں میں ہے جورئیس الجامعہ ارشد بھائی حفظہ اللہ کے ایک بہت ہی لائق وفائق سنجیدہ، خوش مزاج اور صاحب شخصیت فرزند ہیں محترم نئی نسل کے ابھرتے ہوئے نوجوان ہیں جامعہ سے ہی انہوں نے ابتدائی تعلیم پائی ہے اس طرح ان کی نگاہ جہاں زمانے پر ہے وہیں دینی تشخص بھی ان کی طبیعت کا حصہ ہے. مستقبل میں ادارے کو اور قوم کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں . آپ کو آج ہی سے اپنے والد محترم کی سرپرستی میں طبیہ کو ایک بہترین کالج نہیں ایک رہنما کالج بنانے کی سعی کرنی ہوگی اور جہاں تک میرا اندازہ ہے وہ پیش رفت کر بھی رہے ہیں ان شاء اللہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پورے ملک میں یونانی طریق علاج لوگوں کی پہلی پسند بن جاءے گا اور یونانی ادویات کو ڈاکٹر حضرات تجویز کرنے پر مجبور ہو جائیں گے میں اس ضمن  میں ان رکاوٹوں کو بہت زیادہ تسلیم کرنے کا قائل نہیں ہوں جو بالعموم بیان کی جاتی ہیں اور کسی قدر سچ بھی ہیں مگر ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب ہم لوگوں کی ضرورت بن جائیں گے راستے از خود بنتے چلے جائیں گے لوگوں کو اگر پتہ چل جائے کہ فلاں راستہ محفوظ ہے منزل سے قریب ہے تو راستے کی جھاڑ جھنکاڑ وہ اپنے پیروں سے روند ڈالیں اور کانٹوں کا زخم سہہ سہہ کر اسے شاہراہ میں تبدیل کردیں. بھلا اپنی صحت اور جان کسے نہیں عزیز ہے جس طرح کرونا کی آفت میں ہمارے کام نے ہمارا تعارف کرایا دیگر مواقع پر بھی ہمارا کام ہی ہمارا تعارف بنے گا.
شعبہ طب خدمت خلق کا وہ عظیم ترین شعبہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ہے ایسا ممکن ہے کہ کوئی ایک وقت بھوکا رہ لے اور ہمارا ہدیہ نہ قبول کرے مگر ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی درد سے پریشان ہو مسائل کا مارا ہوا ہو اور اسے یقین ہو کہ فلاں جگھ علاج سستا بھی ہے اچھا بھی ہے بھروسے مند بھی ہے اور بایں ہمہ اس کی کوئی اور ترجیح بن جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا. ہم کالج کو کوئی طبی مدرسہ ہی کیوں نہ بنا دیں پیاسے پانی کی تلاش میں چشمے کی طرف ضرور آئیں گے ملک کی مسموم فضا میں ہمارا اس طرح کا کام اور ہماری محنتیں اور ہمارے عزائم تریاق ثابت ہوں گے.
پوری دنیا میں کرونا وائرس کے سبب نسلی اور قومی امتیازات کا جو ایک سیلاب پھوٹ پڑا اس سے مشرقی ایشیائی اور جنوب ایشیائی قوموں کے خلاف کرونا فوبیا جیسی صورتحال پیدا ہوگئی. دستیاب اطلاعات کے مطابق راہ چلتے جاپانیوں کو کرونا بول کر فقرے کسے گئے جنوبی کوریا میں ایسا بھی ہوا کہ ریستوران کے دروازے پر سرخ چینی حروف میں یہ اعلان ہوا :کسی چینی کو اجازت نہیں،، بلکہ، چینی نہیں،، کے بورڈ پورے کوریا میں نظر آنے لگے یہ تو محض ایک مثال ہے ورنہ پوری دنیا میں یہی صورت حال طاری رہی ہمارے ملک میں بھی تعصب اور نفرت کی فصل خوب اگائی گئ، کاٹی گئ، اور ذخیرہ کی گئی، کرونا کا مذھب بنایا گیا، مسلک بنایا گیا، ایریا بنایا گیا سب کچھ ہوا مسلم علاقوں میں جانا اور مسلمانوں کا اپنے علاقوں میں آنا بند کیا گیا اور کرونا جہاد تک کا ہنگامہ برپا کیا گیا مگر منصورہ کاڑھے نے نفرت کی یہ جنگ آسانی سے جیت لی جولوگ مسلمان علاقوں میں خوف سے یا تعصب کے سبب آنے سے ڈرتے تھے وہ مالیگاؤں میں بے خطر آنے لگے اور کاڑھا کی دستیابی کے لئے قطار میں کھڑے ہونے لگے دواؤں کی کاروباری ذہنیت کے دوران منصورہ نے واجبی قیمت پر اسے پورے ملک میں دستیاب کرانے کا عزم کیا غرض اگر شیخ وبرہمن سب ایک دکھنے لگے تو اس میں اللہ کے فضل کے بعد مالیگاؤں میں منصورہ گاڑھے نے کلیدی رول ادا کیا ہے اور ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ مسلمان موت سے ڈرتا نہیں لڑتا ہے اور ملک میں جب بھی کوئی وبا کوئی آفت کوئی بیرونی دباؤ اور کوئی جنگی  صورت حال پیدا ہوگی تو ہمیشہ کی طرح ملک کا مسلمان اپنی تمام تر پریشانیوں کے باوجود صلہ اور تمنا کی پروا کئے بغیر سینہ سپر ہوگا اور اہل وطن کی خدمت کرے گا کیونکہ وطن مسلمان کے نزدیک صرف مٹی کا نہیں مٹی اور مٹی پر چلنے والوں کا نام ہے.

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی