نئی دہلی 26 جولائی (پریس ریلیز) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سیکرٹری و ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ سیکڑیٹ کی قریم عمارت کو منہدم کرنے کے دوران مسجد ہاشمی اور مسجد دفاتر معتمدی کی شہادت کا واقعہ پوری ملت اسلامیہ کیلئے بے حد تکالیف دہ، باعث رنج اور قطعاً ناقابل ہے. مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق مسجد کی زمین کسی شخص یا حکومت کی نہیں ہوتی، بلکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہوتی ہے. اور مسجد عمارت کا نام نہیں ہے بلکہ اس زمین کا نام ہے جس کا نماز پڑھنے کیلئے وقف کیا گیا ہے. یہ بات بہت ہی افسوسناک ہے کہ حیدرآباد میں مقیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ارکان شہر کے علماء اور مفتیان اور دیگر مسلم تنظیموں کی طرف سے مطالبے کے باوجود حکومت نے نہ اس المناک واقعہ کے تدارک کیلئے کوئی علمی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی کوئی واضح تیقن دیا ہے، مسلمان اس واقعہ سے سخت صدمے میں ہیں. اس پہلے کہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی عوامی ردعمل ظاہر ہو، حکومت کو چاہیے کہ اپنی اس غلطی کی تلافی کرے، اس کیلئے تین باتیں ضروری ہیں، اول یہ کہ مسجد اسی جگہ پر تعمیر ہو، جہاں پہلے تھی، کسی اور جگہ پر متبادل مسجد بنائی جائے، یہ مسلمانوں کیلئے قطعاً ناقابل قبول ہے، اور یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ہمارے مزہبی عقیدے سے ہے، دوسرے حکومت ایک مقررہ وقت کی تعین کرے کہ فلاں تاریخ تک سابق جگہ پر دوبارہ مسجد کی تعمیر شروع ہوجائے اور اتنی مدت میں مکمل کرکے مسلمانوں کو حوالہ کردی جائے گی، تیسرے معزز چیف منسٹر تلنگانہ اس سلسلے میں اپنے افسروں کو تحریری طور پر پر ہدایت نامہ جاری کریں، اگر حکومت اس پر توجہ نہیں کی تو مسلمانوں کیلئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا کہ وہ پرامن احتجاج کے ذریعے اپنی بات پیش کریں اور عوام کی عدالت میں اپنا مقدمہ لے جائیں.
شہید کی ہوئی مسجدیں دوبارہ اسی جگہ تعمیر کی جائےدوسری جگہ پر متبادل مسجد کی تعمیر قابلِ قبول نہیں (مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
Shahzad Akhtar (Editor, Maidan e Sahafat)
0
ایک تبصرہ شائع کریں