شہر میں خونخوار کتّوں کا خوف بڑھتا ہی جارہا ہے انتظامیہ توجہ دیں۔ ازقلم : محمد عارف نوری
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)
(پریس ریلیز) مالیگاؤں شہر میں روڈ، گٹر، کچرا، گندگی، گھڑوں کے علاوہ جس نئے مسئلے نے سر اُٹھایا وہ ہیں آوارہ کتّوں کی دھما چوکڑی مالیگاؤں کارپوریشن کی بد انتظامی و لاپرواہی کے سبب شہر میں آوارہ خونخوار کتّوں کی آبادی ہی نہیں بڑھی بلکہ یہ ہر روز شہریان خصوصاً معصوم بچّے اس کا شکار ہورہے ہیں اچانک خونخوار کتّوں کا جھنڈ سامنے آئے اور اپنے نوکیلے دانت نکال کر زور زور سے بھونکنا شروع کردے تو بے چارے عام آدمی کے ہوش ہی اڑ جاتے ہیں اور وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے لیکن اگر آوارہ کتّے دوڑا کر کاٹنا شروع کردیں تو معاملہ جان لیوا بھی ہوسکتا ہے حال ہی میں ایک واقعہ عائشہ نگر میں پیش آیا 4 سالہ معصوم بچّے پر کتّوں نے اچانک حملہ کردیا اور لہولہان کردیا محلّے کے نوجوانوں نے اس معصوم بچّے کو بچایا ورنہ اس بچّے کی جان بھی جاسکتی تھی اسی طرح تقریباً ہر علاقے میں آوارہ کتّوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور انہیں جب بھی موقع ملے خواتین، بچّوں اور بزرگوں، نوجوانوں پر جھپٹ پڑتے ہیں اطلاعات کے مطابق متعدد افراد زخمی ہورہے ہیں شہر میں آوارہ کتّوں کو لیکر خوف و حراس کا ماحول ہے انتظامیہ، کمشنر، میئر، ایم ایل اے اور سیاسی لیڈران اس معاملے میں کس حد تک سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہے ہیں شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں بھی آوارہ کتّوں کی بھر مار ہوچکی ہے شہر کے چوک چوراہوں، گلی، محلّوں، سرکاری اداروں، اسکولوں، مسجدوں سمیت پبلک مقامات پر بھی آوارہ کتّوں کے جھنڈ گھومتے نظر آتے ہیں شہر میں جہاں ایک جانب کتّے کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب اسپتالوں میں ادویات کا بھی فقدان نظر آرہا ہے مالیگاؤں شہر میں آوارہ کتّوں کی نس بندی اور کتّا مار مہم کا آغاز ہونا چاہیے۔
ایک تبصرہ شائع کریں