مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں اب ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے جس میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرسکیں ہر سال کی طرح سال2021-2022 تعلیمی سال کیلئے مولانا سید ارشد مدنی نے تعلیمی وظائف کا اعلان کیا


                                
مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں 

اب ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے جس میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرسکیں
 
ہر سال کی طرح سال2021-2022  تعلیمی سال کیلئے مولانا سید ارشد مدنی نے تعلیمی وظائف کا اعلان کیا

نئی دہلی، 13اکتوبر2021 (پریس ریلیز) ہر سال کی طرح سال 2021-2022 کے لئے بھی جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے آج تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے انہوں کہا کہ ہماری اس ادنیٰ سی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حد تک سنور سکتا ہے جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے، مولانا مدنی نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی جنگ اب شروع ہوئی ہے اس کامقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس جنگ میں سرخروئی حاصل کرنے کاواحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کرکے اس لائق بنادیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کوشکست سے دوچارکرکے کامیابی اورکامرانی کی وہ منزلیں سرکرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طورپر محدوداورمشکل سے مشکل تربنادی گئی ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کردیا، سچرکمیٹی کی رپورٹ اس کی شہادت دیتی ہے جس میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ مسلمان تعلیم کے شعبہ میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں، مولانامدنی نے سوال کیا کہ کیا یہ خود بخود ہوگیا یا مسلمانوں نے جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیارکی؟ ایساکچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اقتدارمیں آنے والی تمام  سرکاروں نے ہمیں تعلیمی پسماندگی کاشکار بنائے رکھا انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اورلیاقت سے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوجائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور روکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کردینے کی کوششیں ہوتی رہیں، انہوں نے زوردیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، ہمیں ایسے اسکولوں اورکالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیازکے بغیر حاصل کرسکیں، جو حالات ہیں ان میں مسلمانوں کو قیادت کی نہیں بلکہ ان کے اندرتعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پیداکرنے کی اشدضرورت ہے۔انہوں نے قوم کے بااثرافرادسے یہ اپیل بھی کی کہ، جن کو اللہ نے دولت دی ہے وہ ایسے اسکول قائم کریں،جہاں بچے اپنی مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، ہر شہر میں چند مسلمان مل کر کالج قائم کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ، بدقسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے اس جانب ہندوستانی مسلمان  بالخصوص شمالی ہند کے دولت مند مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں، آج مسلمانوں کودوسری چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے، یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگاکہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم سے ہی کیا جاسکتاہے۔، انہوں نے کہا کہ اسی مقصدکے تحت جمعیۃعلماء ہند ضرورت مندطلبہ کو کئی برس سے تعلیمی وظائف دینے کا اہتمام کررہی ہے تاکہ وسائل کی کمی یا غربت کی وجہ سے ذہین اور ہونہاربچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں،انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال 2021-2022 کے وظیفے کے لئے فارم پرکرنے کی تاریخ 30 جنوری 2021، فارم ویب سائٹ www.jamiatulamaihind.com سے اپلوڈکیا جاسکتاہے، انہوں نے مزید وضاحت کی کہ وہ طلباء جو کسی سرکاری یامعروف ادارے سے انجینئرنگ، میڈیگل، ایجوکیشن، جرنلزم سے متعلق یا کوئی بھی ٹیکنکل یا پروفیشنل کورس کررہے ہوں اور گزشتہ امتحان میں جنہوں نے کم سے کم 70فیصدنمبرحاصل کئے ہوں، وظیفے کے اہل ہوں گے۔اسطرح کی پریس ریلیز فضل الرحمن قاسمی
پریس سکریٹری جمعیۃعلماء ہند نے روانہ کی.

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی