اس سلسلے میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر آصف شیخ نے پریس اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں سٹی پولس اسٹیشن کی جانب سے امن اجلاس کی اجازت نہیں دی گئی اور پرانت محکمہ نے بھی اس اجلاس کی اجازت کو منظوری نہیں دی تب ہم نے سٹی پولس انتظامیہ اور پرانت آفیسر کے ذریعے امن اجلاس کی اجازت کیوں نہیں دی گئی کیلئے سیشن کورٹ میں عرضداشت داخل کی اسی کے ساتھ عائشہ نگر پولس محکمہ کی جانب سے تعزیرات ہند کی دفعہ 149 کے تحت نوٹس دینے کے سلسلے میں عائشہ نگر پولس انتظامیہ کو بھی پارٹی بناتے ہوئے کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے ۔اس سلسلے میں شیخ آصف نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن اجلاس منعقد کیا جانے والا تھا جسے پولس و پرانت انتظامیہ نے نامنظور کردیا اور ہم کورٹ کے دروازے پر انصاف کیلئے پہنچ گئے ہیں کیونکہ ہر ایک کو جمہوریت میں اظہار خیال کی آزادی ہے۔پولس کا رویہ اسکے منافی نظر آتا ہے ۔خیال رہے کہ 12 نومبر کو رضا اکیڈمی اور آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کی جانب سے پکارے گئے مالیگاؤں بند کی مکمل کامیابی کے بعد شام میں جو تشدد پھوٹ پڑا اور اسکے بعد شہر میں جو ڈر و خوف اور بے چینی کا ماحول بنا ہوا ہے اسے دور کرنے کیلئے امن اجلاس کا انعقاد شیخ آصف کی قیادت میں کیا جانے والا تھا جسے پولس انتظامیہ نے منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی ۔


ایک تبصرہ شائع کریں