گواہ استغاثہ نے اے ٹی یس پر ٹارچر کرنے کا سنگین الزام عائد کیا
بم دھماکہ متاثرین نے عدالت سے گذارش کہ اے ٹی ایس کو صفائی دینے کا موقع دیا جائے
ممبئی 2مارچ(پریس ریلیز) مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں آج خصوصی این آئی اے عدالت میں سرکاری گواہ نمبر 233کی گواہی عمل میں آئی جس کے دوران گواہ نے انسداد دہشت گرد دستہ ATS پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے تفتیش کے دوران اسے شدید ٹارچرکیا تھا جس کی وجہ سے اسے تین دنوں تک اسپتال میں ایڈمیٹ ہونا پڑا تھا۔گواہ استغاثہ ملزم کرنل پروہت کے تعلق سے گواہی دینے کے لیئے عدالت میں حاضر ہوا تھا۔
خصوصی وکیل استغاثہ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا ایک جانب جہاں گواہ سے معقول جواب دیا وہیں آخیر میں اس معاملے کی کلیدی ملزم کرنل پروہت کے وکیل کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جوابات دیتے ہوئے ناشک سے گواہی دینے آنے والے گواہ استغاثہ نے خصوصی جج پی آر سٹرے کو بتایا کہ اے ٹی ایس والوں نے اسے شدید پریشان کیا تھا، گواہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اے ٹی ایس کے چند افسران کا رویہ ان کے ساتھ اچھا تھا لیکن بیشتر افسران نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔
کرنل پروہت کے وکیل نے عدالت سے گذارش کی کہ عدالت آج گواہ کے ساتھ اے ٹی ایس کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں کے تعلق سے تفصیل سے لکھے لیکن خصوصی جج نے انکار کردیا اور کہا کہ عدالت کو سب پتہ ہے کس ایجنسی نے کیسے تفتیش کی ہے لیکن ایک ایک بات کو لکھنا ضروری نہیں ہے۔
اسی درمیان بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شاہد ندیم (جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی) نے خصوصی جج کو کہا کہ اسی لیئے بم دھماکہ متاثرین درخواست کررہے ہیں کہ اے ٹی ایس کو عدالت میں حاضر رہنے کے لیئے کہا جائے کیونکہ وہ اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ آیا انہوں نے گواہوں کے ساتھ تشدد کیا تھا یا آج گواہ 14/ سالوں کے طویل عرصہ کے بعد ملزمین کے دباؤ میں ایسی گواہی دے رہے ہیں اور اے ٹی ایس پر تشدد کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے عدالت کو بتایا کہ یکے بعد دیگرے گواہان اے ٹی ایس کی جانب سے ان پر تشدد کیئے جانے کا سنگین الزام عائد کررہے ہیں لیکن ان الزامات میں کتنی صداقت ہے وہ تو اے ٹی ایس کے افسران ہی بتا پائیں گے لہذا عدالت کو اے ٹی ایس افسران کو صفائی دینے کا موقع دینا چاہئے۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم کے اس بیان پر بھگوا ملزمین چراغ پا ہوگئے اور انہوں نے عدالت سے کہاکہ اے ٹی ایس کو صفائی دینے کا موقع دینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔
اسی درمیان عدالت کی کارروائی کا اختتام عمل میں آیا جس کے بعد عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا کہ کل عدالت میں کسی دوسرے سرکاری گواہ کو پیش کرے۔
ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجررمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کے خلاف قائم مقدمہ میں گواہوں کے بیانات کا اندراج کررہی ہے، ابتک 233 گواہوں کی گواہی عمل میں ا ٓچکی ہے اور عدالتی کارروائی روز بہ روز کی بنیاد پر جاری ہے ۔
ایک تبصرہ شائع کریں