رام مندر بن چکا ہے یکساں سول کوڈ کے عنوان سے حکومت فرقہ وارانہ طور پر حالات پیدا کرکے 2024 کے الیکشن میں ہندو ووٹوں کو حاصل کرنا چاہتی ہیں،مفتی اسمٰعیل قاسمی ہمیں دفعہ 25 اور 26 کا حق حاصل ہے ہمیں ہمارے علماء کرام و اکابرین کے فیصلے سے اتفاق رکھتے ہوئے چلنا ہے

 رام مندر بن چکا ہے یکساں سول کوڈ کے عنوان سے حکومت فرقہ وارانہ طور پر حالات پیدا کرکے 2024 کے الیکشن میں ہندو ووٹوں کو حاصل کرنا چاہتی ہیں،مفتی اسمٰعیل قاسمی


ہمیں دفعہ 25 اور 26 کا حق حاصل ہے ہمیں ہمارے علماء کرام و اکابرین کے فیصلے سے اتفاق رکھتے ہوئے چلنا ہے


مالیگاؤں (پریس ریلیز) بروز سنیچر 8 جولائی کو رات ساڑھے نو بجے حاجی شبیر احمد حج ٹریننگ سینٹر حج کمیٹی اسکول نمبر 1 قدوائی روڈ پر آل انڈیا مومن کانفرنس کے زیر اہتمام ملک میں یکساں سول کوڈ قانون کے نفاذ پر جاری حکومت کی مسودہ تجویز کے مطابق ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی کو مقرر خصوصی کے طور پر بیان اور انکا موقف جاننے کے لئے اس سیمینار سے بحیثیت ایم ایل اے اور مذہبی رہنما کے مدعو کیا گیا تھا اس موقع پر آمدار مفتی اسمٰعیل قاسمی نے یکساں سول کوڈ UCC پر مختصراً جامع بات رکھی، مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی تیاری نہیں ہے کہ یکساں سول کوڈ عنوان پر تفصیلی گفتگو کی جائے، یکساں سول کوڈ فطری یا غیر فطری ہے اس ملک میں بہت ساری برادری، قبائل ہیں صرف مسلمان ہی نہیں ہے اسکا اپنا پرسنل لاء ہے جسکو مسلم پرسنل لاء کہا جاتا ہے سچی بات یہ ہے کہ میری معلومات کے مطابق آٹھ سو سے زائد اس ملک میں پرسنل لاء ہیں لیکن ٹارگٹ نشانہ صرف مسلمانوں کو کیا گیا ہے،اور ابھی یکساں سول کوڈ کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی مسودہ کمیٹی کی طرف سے آیا نہیں ہے سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو میری اپنی رائے ہے ضروری نہیں ہے کہ سب اتفاق کریں، 2024 کا پارلیمنٹ کا الیکشن آئندہ آنا ہے حکومت کے پاس کوئی ایسا ایجنڈا، عنوان نہیں ہے جسکو بنیاد بنا کرکے وہ ہندو ووٹوں کو متحد کرسکے، اس کے سامنے یکساں سول کوڈ بظاہر ایک عنوان لگتا ہے 22 ویں لاء کمیشن کے زریعے سے پورے ملک سے یکساں سول کوڈ کے تعلق سے راۓ منگوائی جائے، ابھی UCC کیلئے مسودہ تیار نہیں ہے تو راۓ پیش کرنا چاہیے یا نہیں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم لوگ اسکی مخالفت کریں یا اسکی موافقت کریں، ابھی کوئی مسودہ تیار نہیں ہے ظاہر بات ہے کہ آج مسلمانوں کا ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ اختلاف درج کروانا چاہیے، اور ایک طبقہ کہتا ہے کہ اختلاف کس چیز سے ظاہر کرنا چاہیے، گورنمنٹ یکساں سول کوڈ لانا چاہتی ہے اس سلسلے میں 22 ویں لاء کمیشن کی طرف سے راۓ منگوائی جا رہی ہیں اب اگر ہمارے سامنے کوئی مسودہ ہوتا تو ہم راۓ دیتے، سیاسی طور پر بظاہر کو جو دکھائی دیتی ہے کہ جب یہ رائے لی جائے گی تو اس راۓ میں سے مسلمانوں کی طرف سے جو اختلاف ظاہر کیا، جائے گا تو اس کو عنوان بنا کر غیر مسلموں کے سامنے پیش کی جائے گی اور کہا جاۓ گا دیکھو اس کی مخالفت اتنے لاکھ لوگوں نے کیا ہے اور اس میں زیادہ بڑی تعداد مسلمانوں کی ہیں اور ہندو طبقے کو یہ احساس دلایا جائے کہ اس میں اختلاف کرنے والوں کی اکثریت اسلام سے تعلق رکھنے والے  مسلمانوں کی ہیں، اس لیے ایک طبقہ یہ کہتا ہے رائے پیش نہیں کرنا چاہیے ضروری نہیں ہے کہ یہ صحیح بھی ہو، لیکن صورتحال کچھ اس طرح کی ہے کہ رام مندر بن چکا ہے اب حکومت کے سامنے فرقہ وارانہ طور پر حالات اس طرح بنانا ہے کہ غیر مسلموں کی ووٹوں کو حاصل کیا جاسکے، لیکن مجھے ایک عنوان ناظم سیمینار کی طرف سے دیا گیا کہ یکساں سول کوڈ شدت نہیں حکمت کی ضرورت ہے ورنہ مَیں ایک عالم ہوں اور شرعی اعتبار سے باتیں ہیں وہ پیش کرتا کہ ہم مسلمان ہیں ملک کے موجودہ حالات میں ہماری جو حیثیت ہیں آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہم دوسری سب سے بڑی اکثریت ہیں یا سب سے بڑی اقلیت ہیں، یکساں سول کوڈ کے آجانے سے سب سے زیادہ متاثر ہم ہونگے، اور کیوں ہونگے.. ؟کہ آج ملک میں اسلام ہی واحد دھرم مذہب ہیں جو ہر اعتبار سے کامل و مکمّل ہیں اور ہم ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس بات کے پابند ہیں کہ فرائض و عقائد اپنی جگہ واجبات اپنی جگہ سنن و نوافل اپنی جگہ ہم ایک عمل سے بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، ایک مرتبہ کیا سو مرتبہ قانون بنے گا ایسا قانون جو اسلام سے متصادم ہوگا ہم توڑے گے، تم ہزار بار بناؤ ہم توڑے گے، ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام پر ہماری زندگی رہے اور موت بھی اسلام پر آئے، ہم کوئی مفاہمت اور مصالحت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ایک جھانسہ دیا جاتا ہے 


یکساں سول کوڈ کے زریعے عام لوگوں کو جیسے ملک کے پرائم منسٹر نے کہا کہ ایک گھر میں دو قانون کیسے چلے گا تو ایک دیش میں دو قانون کیسے چل سکتا ہے ظاہر سی بات ہے اس طرح کے جملے سے لوگ متاثر ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس ملک کے اندر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے جو قانون بنایا تھا اور قانون ساز اسمبلی میں جسے منظور کیا گیا تھا اور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس نے ایک ہی قانون دیا تھا دو قانون نہیں دیے بلکہ ایک ہی قانون دیا، یکساں سول کوڈ کے ہمارے سماجی اور عائلی نظام میں جو آپس کے مختلف عنوانات کو لے کر جو اختلافات ہیں اسکو نشانہ بنایا گیا ہے اور یکساں سول کوڈ دستوری اعتبار سے کیا حیثیت رکھتا ہے یہ ہمارے قانون داں حضرات بتائیں گے، ہمیں تو ایسا سمجھتا ہے کہ دستور نے جو مشورے دیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے  لیکن جو بنیادی حقوق دیا گیا ہے بھارت میں بسنے والے ہر ہندوستانی کو دفعہ 25 اور 26 کے تحت وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ اپنے مذہب پر عمل کریں گا، اپنے مذہب کی تبلیغ کریں گا اپنے مذہب کی تعلیم کیلئے ادارے قائم کریں گا تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوگا اپنے مذہب کی تبلیغ و نشر و اشاعت کی مکمل آزادی ہونگی، دفعہ 25 /26 نے ہمیں یہ بنیادی حق دیا ہے اور اسی قانون نے یہ بھی حق دیا ہے کہ ملک کے کسی ادارے کو چاہے وہ پارلیمنٹ ہو یا اسمبلی یا سپریم کورٹ ہو؛ ان بنیادی حقوق کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، یہ بھی دستور کا ایک حصہ ہے مَیں یہ کہو جو لوگ یو سی سی چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ ملک میں انتشار پیدا کرکے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرے، سب سے بڑا اندیشہ اس بات کا ہیں کہ یہ ایک سیاسی طور پر اور ہم نے ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ ایک مسلمان الیکشنی مدعا ہے اور ہم نے ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ ایک مسلمان اپنے مذہب کے تئیں ثابت قدمی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے ایک اندیشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک ہندو راشٹر بنانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ممکن ہے اور یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیاسی اسٹنٹ ہے مگر ہندوستان کے جتنے قبائل اور برادری ہیں ان میں لوگوں میں ہر ایک کے اپنے رسم و رواج اور کوئی بھی اپنے رسم رواج طور طریقوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا 


یکساں سول کوڈ شدت نہیں حکمت کی ضرورت اس بات کی مَیں سو فی صد اتفاق رکھتا ہوں اور ہمیں روڈ پر اتر کرکے، جذبات میں آکر کے ایسا کوئی قدم اٹھانا جس سے آج کے حکومت کے بر سر اقتدار طبقہ کے تعلق رکھنے والے لوگ سیاسی فائدہ اٹھا لیں،  اور 2024 کے الیکشن میں پھر سے چن کر کے آجائیں، ہمیں ایسا موقع نہیں دینا چاہیے. ہمارا مذہب پوری دنیا میں واحد مذہب ہے جو ہر طرح سے کامل و مکمل دین ہے، جو پیشاب پاخانہ کا طریقہ بھی بتاتا ہے بات دراصل یہ ہے کہ یہ لڑائی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے تعلق سے آج جو صورتحال ہیں اس لڑائی میں مسلمانوں کو صف اول میں نہیں رہنا چاہیے یہ میری ذاتی رائے ہے اور مَیں ایسا سمجھتا ہوں اس لڑائی کو ہم سے بہتر دیگر قبائل و برادری اس لڑائی کو ہم سے بہتر طریقے سے لڑ سکتی ہیں 2016 میں دلت سماج کے لوگوں نے سپریم کورٹ گئے مطلب وہ پہلے سے بیدار ہیں یہ صورتحال ملک کے لیے اچھی نہیں ہے آگے کیا ہونا ہے یہ تو ملک کے علماء اور اکابرین اور ماہر قانون وہ طے کریں گے کیا کرنا ہے ہمیں حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اس پر آگے چلنا چاہیے اور ہم اپنے مذہب پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور جہاں رائے دینے کی بات ہے آپ اپنا اختلاف درج کروائیں، کل ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی طرف سے اختلاف نہیں گیا یہ مان لیا جائے کہ مسلمانوں کو اتفاق ہے مزید موصوف نے کہا کہ جمیعت علماء کے مرکزی صدر حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم نے اپنا ایک واضح پیغام دیا ہے یکساں سول کوڈ کے خلاف اور گزشتہ دنوں مہینے ممبئی میں مجلس منتظمہ کے ارکان کی مجلس میں یکساں سول کوڈ کے خلاف تجویز پیش کرنی کی ذمہ داری مجھے دی گئی تھی اور مَیں نے اس پش منظر میں یہ بات کہی تھی کہ جمیعت علماء ہی نہیں پورے ملک کا مسلمان یکساں سول کوڈ کے مخالف ہیں اور اس ملک کا دستور نے ہر شہری کو مکمل طور پر آزادی دی ہے سیکولر ازم کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس ملک میں جو حکومت ہوگی وہ غیر مذہبی ہوگی،ہم قانونی طور پر مانتے ہیں کہ یو سی سی نہیں آسکتا، حالات کے اعتبار سے بھی ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ مسلمان سے زیادہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت اس معاملے میں ہم سے زیادہ سب سے آگے دوسری قومیں لڑائی لڑے گی اور یہ لڑائی ہم سے بہتر طریقے سے لڑ لے گی اس لئے مسلمانوں کو جذباتی نہ ہوتے ہوئے حکمت عملی اختیار کرنا چاہئے، شرعی اعتبار سے جو حکم معلوم ہے اور قانونی اعتبار سے اختیارات ہے اس پر عمل کرنا چاہیے، اور آنے والے دنوں میں ملک کی کیا صورتحال بنتی ہیں اور ہمارے اکابرین کیا راستہ اختیار کرتے ہیں ہمیں انتظار کرنا چاہیے انکے فیصلے سے اتفاق رکھتے ہوئے انکے پیچھے چلنا چاہیے.

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی