اساتذہ کے ساتھ ناانصافی کرکے تعلیمی ترقی کے خواب دیکھنا لاحاصل :رکن پارلیمنٹ سنجئے راؤت
مہاراشٹر ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے تعلیمی و سماجی خدمات کا اعتراف، سنجئے راؤت کے ہاتھوں مالیگاؤں کے چار اساتذہ ایوارڈ سے سرفراز
مالیگاؤں (نامہ نگار) اساتذہ کا استحصال کرتے رہنا اور تعلیمی ترقی کے خواب دیکھنا لاحاصل اور غیر یقینی ہے اس لئے کہ اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں ۔اساتذہ دس بیس سالوں سے بغیر تنخواہ کے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اساتذہ کا یہ قدم قابل تحسین ہے ۔اسطرح کے جملوں کا اظہار ممبر آف پارلیمنٹ سنجئے راؤت نے کیا ۔موصوف دھولیہ میں مہاراشٹر ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ آج مہاراشٹر میں مادری زبان کو کمزور کیا جارہا ہے اور انٹرنیشنل اسکول کو فروغ دیا جارہا ہے لیکن انٹر نیشنل اسکول کے نتائج خاطر خواہ نہیں نکل رہے ہیں ۔سنجئے راؤت نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے ہزاروں ٹیچرس بغیر تنخواہ کے تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔یہ اساتذہ اپنے خود کے بچوں کے بہتر مستقبل کے انتظامات نہیں کرپارہے ہیں لیکن اسکول میں قوم کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں انہیں میں سلام کرتا ہوں اور انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔
انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج بازار میں ڈگری فروخت ہورہی ہے اگر کسی کو ڈاکٹر کی ڈگری مل جاتی ہے تو وہ کمال نہیں بلکہ اصل ڈاکٹر وہ ہے جو محنت سے اپنا مقام حاصل کریں ۔سنجئے راؤت نے کہا کہ ڈاکٹر راجندر پرساد، اے پی پی جے عبد الکلام، ڈاکٹر رادھا کرشن ،اندرا گاندھی وغیرہ نے بھی ماردی زبان میں پرائمری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی اور مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں اپنا مقام بنایا ۔اس موقع پر مہاراشٹر ٹیچرس اسو سی ایشن کی جانب سے تعلیمی و صحافتی خدمات کے اعتراف مالیگاؤں ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے فعال معلم شیخ زاہد سر کو ممبر آف پارلیمنٹ سنجئے راؤت صاحب ، ممبر آف پارلیمنٹ ونایک راؤت صاحب اور مہاراشٹر ٹیچرس اسو سی ایشن کی صدر ڈاکٹر شبھانگی تائی پاٹل صاحبہ کے ہاتھوں آج دوپہر بارہ بجے دھولیہ میں ردھی سدھی ہال میں منعقدہ استقبالیہ اجلاس میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔وہیں مدر عائشہ ہائی اسکول کے پرنسپل گلاب پنجاری سر کا تعلیمی خدمات کے عوض میں اعتراف کیا گیا ، اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے معین سر کو تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن شریف کا مراٹھی زبان میں ترجمہ کرنے پر اعزاز تفویض کیا گیا جبکہ ، جے اے ٹی ہائی اسکول کے اشفاق لعل خان سر کو تعلیمی و سماجی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر رکن پارلیمنٹ سنجئے راؤت کے ہاتھوں ایوارڈ سے نوازا گیا ۔اس اجلاس میں پانچ اضلاع کے تقریباً 54 تعلقوں کے 300 اردو مراٹھی اساتذہ کرام و معلمات کا استقبال کیا گیا اور انہیں ٹرافی سے نوازا گیا ۔مالیگاؤں شہر کے چاروں اساتذہ کو انکی خدمات کے اعتراف میں ملنے والے اعزاز پر ڈھیر ساری مبارک باد و نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید تعلیمی و سماجی صحافتی خدمات کا موقع عنایت فرمائیں ۔


ایک تبصرہ شائع کریں