ممبئی 4 جون (پریس نوٹ) مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کے متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعتہ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) کی جانب سے سپریم کورٹ میں سبکدوش خصوصی این آئی اے جج کی دوبارہ تقرری کی عرضداشت داخل کی تھی جس پر کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جسکے دوران عدالت بم دھماکہ متاثرین کو حکم دیا کہ وہ چیف جسٹس آف ممبئی ہائی کورٹ سے اس تعلق سے رجوع ہوں اور ساتھ ہی ساتھ چیف جسٹس آف ممبئی ہائی کورٹ کو بھی حکم دیا کہ وہ متاثرین کی درخواست پر مناسب فیصلہ کریں۔
جمعتہ مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اس ضمن میں مزید بتایا کہ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی سماعت کرنے والے انتہائی ایماندار اور سنجیدہ جج ونود پڈالکر گزشتہ ماہ سبکدوش ہوگئے تھے حالانکہ ان کی سبکدوشی سے قبل ہی جمعتہ علماء نے سپریم کورٹ میں ان کی میعاد میں توسیع کئیے جانے کی درخواست داخل کی تھی لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے عدالتی نظام درہم برہم ہوگیا اسی درمیان جج پڈالکر سبکدوش ہوگئے لہٰزا کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہوئی سماعت پر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ خصوصی جج کی دوبارہ تقرری کرے کیونکہ ان کے سامنے ابتک 140 سرکاری گواہان نے اپنے بیانات قلنبند کرائے ہیں اور جج ونود پڈالکر کو مقدمہ کے تعلق سے سب پتہ ہے لہٰزا اب اگر کسی دوسرے نئے جج کی تقرری کی جائے گی تو ٹرائل ختم ہونے میں مزید کئی سال لگ جائیں گے ، پہلے ہی بارہ سالوں کا طویل وقفہ گزر چکا ہے اور بم دھماکہ متاثرین سمیت دنیا بھر کے انصاف پسند عوام کی نظریں اس اہم مقدمہ پر لگی ہوئی ہیں جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ سادھوی پر گیا سنگھ ٹھاکر ، کرنل پروہت سمیت دیگر ہائی پروفائل ملزمین مقدمہ کا سامنا کررہے ہیں ۔
بزریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ہوئی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا نے بم دھماکہ متاثرین کو حکم دیا کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اس تعلق سے رجوع ہوں کیونکہ انہیں ہی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جج کی میعاد میں تقرری یا سبکدوش ہو جانے کے بعد دوبارہ مقرر کرسکتے ہیں ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ یکم فروری 2020 کو جمعتہ علما کے وکیل شاہد ندیم نے چیف جسٹس آف ممبئی ہائی کورٹ ، چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف انڈیا ، وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ محکموں کو خصوصی جج ونود پڈالکر کی میعاد میں توسیع کئیے جانے کے لیئے خطوط روانہ کئیے تھے لیکن کسی بھی محکمہ کی جانب سے جواب موصول نہ ہونے کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی گئی تھی جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے حکم دیا کہ ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے اور ہائی کورٹ کو بھی حکم دیا کہ وہ اس تعلق سے مناسب فیصلہ کرے۔
خصوصی این آئی عدالت میں بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے کہا کہ خصوصی جج ونود پڈالکر کے سبکدوش ہوجانےکے بعد سے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے کی سماعت التواء کا شکار ہے ، ابھی تک نئے جج کی تقرری نہیں ہوئی ہے لہٰزا اب ہم ممبئی ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے وہ جج ونود پڈالکر کی دوبارہ تقرری کرتے ہوئے انہیں چھ ماہ کے اندر مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کا حکم جاری کرے کیونکہ بارہ سال گذر جانے کے باوجود مقدمہ فیصل نہیں ہوسکا ہے ۔
ایک تبصرہ شائع کریں