صدر جمہوریہ ہند کو بابری مسجد انہدام اور مسجد کے قضیہ پر انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی کا محضر نامہ آصف شیخ کی سرپرستی میں انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی کے ارکان کی ایڈیشنل کلکٹر و پرانت آفیسر سے ملاقات

 صدر جمہوریہ ہند کو بابری مسجد انہدام اور مسجد کے قضیہ پر انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی کا محضر نامہ 

آصف شیخ کی سرپرستی میں انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی کے ارکان کی ایڈیشنل کلکٹر و پرانت آفیسر سے ملاقات 

مالیگاؤں (پریس ریلیز) صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو کو مالیگاؤں شہر کے ایڈیشنل اور پرانت آفیسر کے ذریعہ مالیگاؤں شہر کی انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی نے آج آصف شیخ رشید کی ایما پر ایک محضر نامہ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 06 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کو ملک کی کچھ فرقہ پرست تنظیموں نے شہید کر دیا تھا۔ 1992 کے بعد ملک کے اقتدار پر مختلف حکومتیں بھی آئیں، انہوں نے مسلمانوں کو صرف یقین دلایا لیکن حقیقت میں انصاف نہیں دیا ۔ بابری مسجد کا مقدمہ ملک کی سپریم کورٹ میں دائر ہے۔ بابری مسجد کا فیصلہ 2019 میں ہوا۔ 

ملک کے تمام عدالتی فیصلے شواہد کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ بابری مسجد کیس میں فیصلہ ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ یہ ہماری ذاتی رائے ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ کرنے والے جج صاحبان رنجن گوگوئی (CJI) کی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد انہیں صدر کے کوٹے سے راجیہ سبھا کا رکن بنایا جاتا ہے، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت نے اس کیس کا فیصلہ کیا لیکن انعام کے طور پر انہیں راجیہ سبھا کا رکن بنادیا ۔ اسی دوران ملک کی سپریم کورٹ کے چار جج عدالت سے باہر آئے اور اپنی رائے کا اظہار کیا کہ عدلیہ میں حکومت کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ لیکن ملک کے مسلمانوں کو آج بھی عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔ یہ ملک آج بھی بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے آئین کی پیروی کرتا ہے۔

ہم 06 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ بابری مسجد کل بھی تھی آج بھی۔ اور یہ قیامت تک رہے گا۔صدر جمہوریہ ہند کو آصف شیخ کی دستخط سے محضر نامہ انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی کے ذمہ داران اعجاز عمر، حافظ انیس اظہر ،رئیس عثمانی، عبدالکریم، ندیم احمد، شکیل شاہ، عامر ملک جنید عالم، محمد مسلم، ریاض علی، وسیم احمد، قاسم احمد، انصاری ابوذر، محسن خان اور کریم خان کے توسط سے پرانت آفیسر و ایڈیشنل کلکٹر کے ذریعے روانہ کیا گیا ۔اس موقع پر رئیس عثمانی، اعجاز عمر ،حافظ انیس اظہر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ بابری مسجد کل بھی تھی اور آج بھی ہے اور قیامت تک یہ مسجد رہے گی ۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی