مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دیویندر فرنویس سے آصف شیخ کی ملاقات ، ہیرا پورہ قبرستان اراضی کی فروختگی میں لاکھوں کا ٹرن اوور جرائم پیشہ ذہنیت کے زمین مافیا و سیاسی پشت پناہی کرنے والوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ ،دیویندر فرنویس کا مثبت تیقن

 مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دیویندر فرنویس سے آصف شیخ کی ملاقات ، ہیرا پورہ قبرستان اراضی کی فروختگی میں لاکھوں کا ٹرن اوور 

جرائم پیشہ ذہنیت کے زمین مافیا و سیاسی پشت پناہی کرنے والوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ ،دیویندر فرنویس کا مثبت تیقن 


مالیگاؤں  (پریس ریلیز) مالیگاؤں ڈیولپمنٹ اسکیم مالیگاؤں سنگمیشور سروے 117، 120‏ اور 121 ریزرویشن نمبر۔ 378 پر ہوئے غیر قانونی کاروبار پر قانونی کارروائی کی جائے کیوں کہ یہ زمین مسلم قبرستان کے لیے مختص ہے اور اسے غیر قانونی طور پر ٹکڑے کرکے زمین کی خرید و فروخت کی جارہی ہے۔اس ضمن میں مورخہ 24 جنوری کو مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں پہلی شکایت داخل کی گئی ہے ۔مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے شہری ترقیاتی منصوبہ میں درج سائٹ نمبر 378، سروے نمبر 117، 120 اور 121 کی زمین مسلمانوں کے قبرستان کے لیے مختص ہے۔ کچھ زمین مافیا اور سیاسی لوگ اس زمین کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر خرید و فروخت کر رہے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں دخل اندازی کرتے ہوئے گنہگاروں پر سخت کارروائی کی جائے ۔اسطرح کا ایک مکتوب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ دیویندر فرنویس سے ملاقات کرتے ہوئے ممبئی میں آصف شیخ نے دیا ہے ۔آصف شیخ نے مکتوب میں بتایا کہ  مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن شہری ترقیاتی منصوبے میں سروے نمبر 117، 120 اور 121 ریزرویشن نمبر 378 مسلم قبرستانوں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ میونسپل کارپوریشن نے اس اراضی کو حاصل کرنے کے لیے مہاسبھا کی قرارداد منظور کی ہے۔اس کے علاوہ سروے نمبر 117 کے مالک نے ویڈیو میڈیا کے ذریعے نشر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے یہ زمین کسی کو فروخت نہیں کی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی مالی لین دین کیا ہے۔مالیگاؤں سنگمیشور شیوار کا نظرثانی شدہ شہری ترقیاتی منصوبہ برائے مسلم قبرستان سروے 117، 120 اور 121 ایریا 10 ایکڑ ریزرویشن نمبر 378 مسلم قبرستانوں کے لیے مختص ہیں اور یہ اکثریتی مسلم اکثریتی علاقوں پر نافذ ہوتا ہے۔جس میں ہیرا پورہ، گلشن معصوم، روی وار وارڈ، رسول پورہ، بوہرہ باغ، گلشن یاسین ، گلشن ملک، گلشیر نگر، گلشن ابراہیم،  شامل ہیں۔آصف شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے کہا کہ  اس طرح قبرستان کیلئے محفوظ اراضی کو غیر قانونی طور پر تقسیم (ٹکڑے) کر کے فروخت کردیا جاتا ہے جس سے شہری ترقیاتی منصوبے کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہوتا۔ جب لینڈ فریگمنٹیشن پرہیبیشن ایکٹ نافذ ہے تو ایسے غیر قانونی کاموں کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ زمین کے ایسے ٹکڑے غیر قانونی طور پر فروخت کر رہے ہیں۔ اس میں میونسپل کارپوریشن کے افسران کے ملوث ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کروڑوں روپے کا کاروبار ہوا ہے اور جس سے کچھ سیاسی لوگوں کو لاکھوں روپے کا فائدہ ہوا ہے۔



آصف شیخ رشید نے وزیر داخلہ کو لکھا ہے کہ متعلقہ زمین مافیا گینگسٹر رجحان کے ہیں اور ان کے خلاف 307/302/326/420 آرم ایکٹ جیسے سنگین جرائم درج کیے گئے ہیں اور اس قبرستان معاملے میں سرکاری/انتظامی اہلکاروں کے ملوث ہونے کی وجہ سے غریب لوگ اس معاملے میں شکایت کرنے کے لیے آگے نہیں آتے۔ اس لیے متعلقہ محکمہ اینٹی کرپشن کے ذریعے انکوائری کرائی جائے اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔اس مکتوب کو بغور مطالعہ کے بعد وزیر داخلہ دیویندر فرنویس نے دستخط کرتے ہوئے آگے کی کارروائی کیلئے فارورڈ کیا ہے اور کہا کہ اس معاملے میں مثبت کارروائی کی جائے گی ۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی