جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے فساد زدہ مساجد کی مرمت کا کام شروع اہل مساجد نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا

 جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے فساد زدہ مساجد کی مرمت کا کام شروع

اہل مساجد نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا



 نئی دہلی  ۲۰؍ اگست (پریس نوٹ) جمعیۃ علماء ہند نےسوہنا ، ہوڈل ، تاوڑو  وغیرہ میں شد ت پسند عناصر کی طرف سے مساجد پر کئے گئے حملوں کا جائزہ لیا ہے اور ان مساجد کی تباہی کا اندازہ لگانے کے بعد ان کی مرمت کے کاموں کو توسیع دی ہے ۔ اس درمیان ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی کی سربراہی میں وفد نے متعدد مساجد کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا ہے  اور ان کو یقین دلایا  ہے کہ نہ صرف ان مساجد کی مرمت کی جائے گی بلکہ شرپسندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بھی کوشش کی جائے گی ۔ذمہ داران مساجد نے اپنے ویڈیو پیغام میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کے اس دینی و انسانی جذبے کی ستائش کی ہے ۔

جمعیۃ علماء ہند کی طرف جن مساجد کی مرمت کا کام شروع کیا  گیا ہے ، وہ حسب ذیل ہیں : (۱) سوہنا کے نہرو بازار کی لکڑ شاہ مسجد جو کنڈ والی مسجد کے نام سے مشہور ہے،

یہاں کے امام  مولانا محمد طاہر سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نےجمعیۃ علماء ہند کے وفد کا استقبال کیا۔ یہاں جمعیۃ کی نگرانی میں مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے۔


(۲) مولوی جمیل والی مسجد سوہنا  کے امام مولانا محمد سفیان سے ملاقات ہوئی انھوں نے کہا کہ مسجد کے پنکھے دروازے اور دیگر سامانوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔


الحمدللہ یہاں بھی جمعیۃ کی طرف سے تعمیر و مرمت کا کام شروع ہو گیا ہے (۳) سوہنہ کی جامع مسجد بارہ کھمبے والی میں وفد کی حاضری ہوئی اور  امام مولانا کلیم کاشفی نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کو سراہا اور مولانا محمود مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ ادا کیا۔ یہاں بھی وفد نے کام شروع کروادیا ہے۔ (۴)تاؤڑو شہر میں کچا بازار جامع مسجد میں حاضری ہوئی۔ یہاں بھی مسجد کے سامانوں کو جلا دیا گیا ہے۔ امام مولانا فاروق نے وفد کو بتایا کہ مائک کا پورا سسٹم، انورٹر، صفیں، دروازہ اور پنکھے جلا دیئے گئے ہیں۔ یہاں بھی ضروری اشیا کی بازآبادکاری کا کام شروع ہو گیا ہے (۵) تاؤڑو شہر کی بیوپاری مسجد (مسجد قریشیان)میں جب وفد پہنچا تو مسجد کے امام مولانا جرار نے جمعیۃ علماء ہند کے وفد کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس مسجد میں معمولی نقصان ہوا ہے، لیکن پولیس پرساشن جماعت سے نماز کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ وفد نے یقین دلایا کہ جلد ہی پولس پرشاسن سے بات کی جائے گی اور اس معاملے کو حل کرلیا جائے گا ۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کے سروے کے مطابق میوات میں کل ۱۳؍ مساجد کا نقصان ہوا ہے ۔ جن میں بعض مساجد میں جزوی نقصان ہوا ہے ۔جمعیۃ علماء کی طرف سے بقیہ مساجد کے ذمہ داروں سے رابطہ اور تخمینہ کا عمل جارہی ہے ، اس کے علاوہ بہت سارے مسلمانوں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے ، سرکاری کارروائی کی و جہ سے بہت سارے لوگ بے گھر ہوئے ہیں، سبھی ضرورت مندوں  کا جامع سروے جاری ہے ۔

جمعیۃ کے وفد نے ریڑھی اور ٹھیلے والے، جو دن کماتے اور کھاتے تھے وہ بے روزگار ہو چکے ہیں، ایسے لوگوں کی فہرست تیار کروا کے سب کے لیے ریڑھی اور ٹھیلے کا انتظام کرارہی ہے۔


جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب ، مفتی سلیم احمد قاسمی ساکرس جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء میوات، ماسٹر محمد قاسم نائب صدر جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب، مولانا غیور احمد قا سمی سینئر آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد ترواڑہ ،مولانا معظم عارفی قاسمی،مولانا عابد قاسمی صدر جمعیۃ علماء دہلی، قاری اسلم بڈیڈوی صدر جمعیت علماء میوات، ناصر حسين زكريا اُٹاوڑی صدر جمعیت علماء فریدآباد، قاری شمیم  امام ذاکر نگر اوکھلا اور مولانا محمد شاہد قاسمی نائب صدر جمعیت علماء منگولپوری دہلی وغیرہ شامل ہیں ۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی