مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے احاطہ عدالت میں کار پارکننگ کی اجازت طلب کی ایک ملزمین نے ممبئی میں رہنے کی سہولت نا ہونے کی بنیاد پر مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنے کی گذارش کی

 مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ

    سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے احاطہ عدالت میں کار پارکننگ کی اجازت طلب کی

 ایک ملزمین نے ممبئی میں رہنے کی سہولت نا ہونے کی بنیاد پر مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنے کی گذارش کی


ممبئی (پریس ریلیز) 

 مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں آج  لگاتارتیسرے دن خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کے بیانات درج کیئے، آج بھی عدالتی کارروائی کا آغاز تاخیر سے ہوا کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور اس مقدمہ کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکرعدالت تاخیر سے پہنچی اور اس نے تاخیرسے پہنچے کی وجہ طبیعت اور ممبئی کی ٹرافک کو بتایا۔سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے عدالت تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے گیارہ کی بجائے ڈھائی بجے عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا۔

خصوصی این آئی اے جج اے کے لاہوٹی نے آج ملزمین سے بم دھماکہ میں زخمی ہونے والے زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر تیل راندھے کی گواہی کی بنیاد پر سوالات پوچھے جس کا جواب ملزمین یہ کہتے ہوئے دیا کہ انہیں کچھ پتہ نہیں یا انہیں کچھ نہیں کہنا ہے یا غلط ہے۔خصوصی جج نے ملزمین کو انگریزی، ہندی اور مراٹھی میں سوالات سمجھائے اور ان سے جواب طلب کیا۔ گذشتہ کل خصوصی این آئی اے عدالت نے ابتک ملزمین سے  213/ سوالات پوچھ چکی ہے، عدالت کل ایک بار پھر ملزمین سے سوالات پوچھے گی، خصوصی جج نے ملزمین کو کہا کہ عدالت سنیچر کے دن کرنل پروہت کی جانب سے داخل عرضداشت پر حکم جاری کریگی لہذا اس دن 313/ کے تحت سوالات نہیں ہونگے۔ 


ملزمین سے سوالات کے اختتام کے بعد سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے خصوصی جج اے کے لاہوٹی کو ایک عرضداشت دیتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ ان کی کار کو عدالت کے احاطہ میں پارکننگ کی اجازت دی جائے کیونکہ ان کی کار میں ان کی دوائیاں اور دیگر اشیاء رہتی ہے جس کی اسے کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ کی عرضداشت کو پڑھنے کے بعد خصوصی جج نے انہیں کہاکہ پارکننگ کا معاملہ پرنسپل جج کے اختیار میں آتا ہے لہذا و ہ پرنسپل جج سے رجوع کرے جس کے بعد پرگیہ سنگھ کے وکلاء نے پرنسپل جج سے رجوع ہونے کے لیئے سیشن کورٹ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ قائم کیا۔

اسی درمیان ملزم سدھاکر اوم کار چترویدی عدالت سے گذارش کی کہ عدالت عدالتی کارروائی کچھ دن کے لیئے ملتوی کرے کیونکہ اس کے پاس رہنے کے لیئے جگہ نہیں ہے اور ممبئی میں کوئی انہیں کرایہ کا مکان نہیں دیتا۔ خصوصی جج نے انہیں کہاکہ وہ اپنے وکیل سے صلاح مشورہ کریں جس کے بعد عدالت اس کی عرضداشت پر کارروائی کریگی لیکن عدالت مقدمہ کی سماعت ملتوی نہیں کرسکتی ہے۔


اس دوران عدالت میں خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال،جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی جانب سے بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اعجاز شیخ و دیگر موجود تھے۔

 واضح رہے کہ ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجررمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کے خلاف قائم مقدمہ کی سماعت روز بہ روز کی بنیاد پر جاری ہے۔323سرکاری گواہان کے بیانات کے اندراج کے بعد عدالت نے ملزمین کے 313 کے بیانات کا اندراج شروع کردیا ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی