حیدرآباد میں کانگریس پارٹی کی جانب سے کٹ آؤٹ آویزاں کے سی آر اور اسد الدین اویسی کو نریندرمودی کی کٹھ پتلی کے طور پر دکھایا گیا

 حیدرآباد میں کانگریس پارٹی کی جانب سے کٹ آؤٹ آویزاں

کے سی آر  اور اسد الدین اویسی کو نریندرمودی کی کٹھ پتلی کے طور پر دکھایا گیا



حیدرآباد 11 نومبر (ایجنسی) وزیر اعظم مودی کے تلنگانہ کے دورے کے  موقع پر جہاں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں  کانگریس نے ہفتہ کے روز حیدرآباد کی سڑکوں پر تلنگانہ کے  وزیر اعلیٰ کے سی آر اور ال انڈی مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد لیڈر اسد الدین اویسی کو وزیر اعظم نریندری مودی کی "کٹھ پتلی” کے طور پر دکھاتے ہوئے کٹ آؤٹ لگائے۔

 یہ کٹ آؤٹ کانگریس کے بار بار یہ الزام لگانے کے چند دن بعد آیا ہے کہ بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) بی جے پی کی بی ٹیمیں ہیں۔

ہفتہ کو تلنگانہ کانگریس نے اس دن مہم شروع کی جس دن پی ایم مودی حیدرآباد کا دورہ کرنے والے تھے۔ کٹ آؤٹ میں دکھایا گیا ہے کہ پی ایم مودی کے سی آر اور اویسی کو کٹھ پتلیوں کی طرح دھاگوں سے سنبھال رہے ہیں۔

https://twitter.com/Anjan94150697/status/1723301788206711218?t=ACxvs7JtoPMmjYfmJzJIMg&s=19

کٹ آؤٹ بیگم پیٹ اور ہائی ٹیک سٹی حیدرآباد سمیت جگہوں پر رکھے گئے ہیں۔ ANI کی رپورٹ کے مطابق دن بھر کٹ آؤٹ نے راہگیروں کی توجہ مبذول کرائی۔انتخابی مہم کے ایک حصہ کے طور پر مودی کے سکندرآباد میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے سے عین قبل شہر کے کئی مقامات پر یہ کٹ آؤٹ نظر آئے۔

اس سے پہلے تلنگانہ کانگریس نے انتخابی مہم کے دوران ایک گلابی کار (بی آر ایس کی علامت اور رنگ) کو بھی پنکچر کیا تھا۔ 


دریں اثنا پی ایم مودی آئندہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے قبل درج فہرست ذات برادریوں تک اپنی رسائی کے ایک حصے کے طور پر ہفتہ کو حیدرآباد کے پریڈ گراؤنڈس میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب تشریف لائے تھے۔

اس موقع پر شہر کے مختلف مقامات پر کے سی آر او راسد الدین اویسی کےطنز آمیز کٹ آوٹس لگائے

کانگریس کی انتخابی مہم تلنگانہ میں رائے دہندوں اور سیاسی قائدین کو یکساں طور پر مسحور کررہے ہیں۔اپنی کٹ آؤٹ حرکات سے پہلے تلنگانہ کانگریس نے انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کے ایک حصے کے طور پر گلابی رنگ کی کار نکالی اور اسے پنکچر کیا۔

 اس کارروائی میں بی آر ایس پارٹی کا نشان ایک کار شامل تھی۔ پارٹی نے جمعہ کو ایک گلابی کار کا استعمال کیا کیونکہ گلابی بی آر ایس پارٹی کے جھنڈے کا رنگ ہے۔بی آر ایس سے جڑے مبینہ گھوٹالوں کو اجاگر کرنے کے لیے کار کا رنگ گلابی تھا۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی