622 طلباء کا مستقبل خطرے میں جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں کے صدر مفتی محمدہارون ندوی کی قیادت میں سرپرستوں نے ایجوکیشن آفیسر سے کی ملاقات

 622 طلباء کا مستقبل خطرے میں  

جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں کے صدر مفتی محمدہارون ندوی کی قیادت میں سرپرستوں نے ایجوکیشن افسر سے کی ملاقات 

مفتی محمد ہارون ندوی کی قیادت میں طلباء کے سرپرستوں پر مشتمل وفد نے ایجوکیشن آفیسر کو مطالباتی میمورنڈم پیش کیا 

جلگاؤں 27 جولائی (پریس ریلیز) جلگاؤں شہر کے دسویں پاس طلباءو طالبات کے والدین ،سرپرست حضرات و محب تعلیم پر مشتمل وفد نے آج ضلع پریشد جونیئر کالج ایجوکیشن افسر کو اپنے بچوں کو گیارھویں جماعت میں داخلے کولے کر ایک سنگین مسلے کی جانب توجہ مبذول کرائی۔میمورنڈم دیتے ہوۓ مطالبہ کیاگیاکہ شہر و اطراف و اکناف کے اردو میڈیم کی ہائی اسکولوں سے دسویں کامیاب ہونے والے طلباء کی مجموعی تعداد  1242 ہیں۔جبکہ شہر کی اردو میڈیم  مختلف  کالجیز کی تعداد صرف پانچ ہیں۔اسی طرح شہر کے قریبی مقامات کے سو طلباء کے ساتھ طلباء کی مجموعی تعداد 1342 ہوجاتی ہیں۔اور مذکورہ کالجیز میں اینگلو  سائنس کالج  ،اینگلو آرٹس کالج  ،اقراء شاہین جونیئر کالج  ، کے۔کے۔گرلز جونیئر اور ملت جونیئر کالج ہیں۔ان کالجز میں صرف 720 طلباء کے داخلے کیئے جاسکتے ہیں۔جبکہ 622 طلباء اور ان کے سرپرستوں کے سامنے گیارھویں جماعت میں داخلہ لینا ایک بہت بڑا مسلہ ہے۔ ایک طرف حکومت سب کو تعلیم ملے اور بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کا نعرہ بلند کرتی ہیں۔اور دوسری جانب طلباء کےلیئے تعلیم کے حصول کےلیئے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مفتی محمد ہارون ندوی کی قیادت میں طلباء کے سرپرستوں پر مشتمل وفد

 شہر کی مختلف اردو میڈیم اسکولوں سے دسویں کامیاب طلباء کے لیئے گیارھویں جماعت میں داخلہ لینا مشکل نظر آرہا ہے۔اس مسلے کے ضمن میں جلگاؤں کے دسویں پاس طلباء کے والدین و سرپرستوں پر مشتمل وفد نے جمعیت علماء ہند (ارشد مدنی) کے ضلع صدر مفتی محمد ہارون ندوی کی قیادت میں ضلع پریشد جونیئر کالج ایجوکیشن افسر کی چیئرپرسن افسر سے  622 طلباء کے سامنے پیش آنے والی تعلیمی مشکلات کے مسلے کی جانب توجہ مبذول کرائی۔اور اس سنگین مسلہ کو فوری طور پر کسی نہ کسی صورت حل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ کیونکہ مجموعی طور پر گیارھویں کے داخلوں کے مرحلوں کی تاریخ کا اعلان جلد ہوسکتا ہے۔ اس تعلق سے افسر کو وفد نے مطالبات کا مکتوب پیش کیا۔اس موقعہ پر اردو میڈیم سے  دسویں پاس طلباء کے والدین ، ان کے سرپرست و مرد خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی