آصف شیخ کی مفتی اسماعیل قاسمی سمیت تمام مکاتب فکر کی جمعیت سے ملاقات ، ہیرا پورہ قبرستان کی حفاظت کیلئے آگے آئیں
مالیگاؤں (پریس ریلیز) عرض گزارش ہے کہ مالیگاؤں مسجدوں میناروں مدارسِ دینیہ اور علماء و حفاظ کا شہر ہے اس شہر کی محبت کشادہ دلی پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا شہر بہت ہی تیزی سے پھل اور پھول رہا ہے مسلمان بڑی تعداد میں دور دور سے آکر یہاں بس رہے ہیں۔شہری آبادی روزی روزگار کی فراوانی اور زمین کی مناسب قیمتوں کی وجہ سے شہر مالیگاؤں اطراف و اکناف میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مساجد اور مدارس نیز قبرستان کی ضرورتیں بڑھ رہی ہیں. ماضی میں صرف چھوٹا، بڑا اور سمکسیر قبرستان تھا مگر ماضی قریب میں عائشہ نگر قبرستان اور اب فارمیسی کالج کے پاس بھی کارپوریشن کی جانب سے ایک قبرستان بن کر تیار ہے ایسے میں جبکہ شہر کے چاروں طرف قبرستان کی شدید ضرورت محسوس ہورہی ہے، لوگوں کو بڑا قبرستان دور ہونے کی وجہ سے از حد تکالیف کا سامنا ہے شہر کے جنوب مغربی حصے باغ محمود، ہیرا پورہ موہن بابا نگر گلشن معصوم، گلشن مالک جہاں تقریباً بیس سے پچیس مساجد وجود میں آ چکی ہیں، اسی مسلم آبادی کے تناظر میں قبرستان کی بھی ضرورت محسوس کرتے ہوئے کارپوریشن ڈیولپمنٹ پلان میں (ترقیاتی منصوبہ بندی) سنگمیشور سائٹ و ریزرویشن نمبر 378 کے تحت سروے نمبر 117 120 اور 121 میں 3.11 ہیکٹر یعنی کم و بیش پونے آٹھ ایکڑ قطعہ اراضی قبرستان کے لئے کارپوریشن کی جانب سے ریزرو کیا گیا ہے جسے کارپوریشن گورنمنٹ ریٹ پر خریدنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جاری پروسیجر کے تحت کارپوریشن مہا سبھا میں اس قبرستان کے قیام کے لئے تجویز بھی منظور کی جا چکی ہے مگر افسوس ابھی کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ کچھ زمین کے کاروباری افراد قبرستان کی زمین کو پلاٹ کی سائز میں تقسیم کر ٹکڑا بنا کر غریبوں کو جھانسہ دے کر فروخت کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں اور مجوزہ قبرستان کی زمین پر روڈ گٹر بنانے اور لائٹ پول لگانے کا کام جاری ہے جبکہ کارپوریشن نے شہریان کیلئے نوٹس بھی نکالی ہے کہ مجوزہ قبرستان کی زمین کوئی نہ خریدے مگر اتنا سب ہونے کے باوجود دھڑلے سے قبرستان کی زمین فروخت کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں شہر کی دینی تنظیموں سے ملاقات کرتے ہوئے آصف شیخ رشید نے گزارش ہے کہ معاملے کی سنگینی اور نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی جماعت کی طرف سے اعتراض داخل کریں اور قوم و ملت کی اس امانت کی حفاظت کیلئے آگے بڑھ کر کوششیں کریں۔ یاد رکھیں اگر آج ہم نے جنوب مغربی شہر کے اس مضافاتی قبرستان کے لئے آواز نہیں اٹھائی اور متحد ہو کر اسے نہیں بچایا تو ہم کبھی بھی اس علاقے میں قبرستان نہیں بنا سکیں گے۔اسلئے اپنی دینی ملی و سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس زمین کی حفاظت کے لئے آگے آئیں اور وہاں کسی بھی طرح کی کوئی غیر قانونی بستی نہ بسنے دیں۔ اسی عنوان کو لیکر شہر راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ضلعی صدر آصف شیخ رشید نے شہر کی دینی تنظیموں کے ذمہ داران مولانا شکیل احمد فیضی صاحب دامت برکاتہم (امیر جمعیت اہلحدیث مالیگاؤں)، حضرت مولانا آصف شعبان صاحب دامت برکاتہم (صدر جمعیۃ علماء سلیمانی چوک مالیگاؤں)، حضرت مولانا سید محمد امین القادری صاحب دامت برکاتہم، (نگراں سنی دعوت اسلامی مالیگاؤں)، صوفی نورالعین صابری صاحب(صدر سنی جمعیۃ الاسلام مالیگاؤں)، حضرت مولانا عبدالعظیم فلاحی صاحب (امیر جماعت اسلامی مالیگاؤں)، زمہ داران ،کل جماعتی تنظیم مالیگاؤں، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی صاحب (صدر رضا اکیڈمی مالیگاؤں)،مولانا عبدالقیوم قاسمی صاحب (صدر ناسک ضلع جمیعت علماء) ،الحاج یوسف الیاس صاحب (صدر و اراکین آل انڈیا سنی جمعیت علماء مالیگاؤں) کے صدر و اراکین سے ملاقات کرتے ہوئے ہیرا پورہ قبرستان زمین فروخت معاملے میں لیٹر دیکر تمام ذمہ داران سے اپیل کی کہ آپ بھی قوم و ملت کی ملکیت کو بچانے کیلئے آگے آئیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں